Tlak or halal

طلاق اور حلالہ
مجھ سے کسی نے سوال پوچھا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں تین مرتبہ طلاق دیتا ہے تو کیا طلاق ہوجائے گی؟
میں نے کہا، آپ کا سوال درست نہیں، سوال درست کریں تو جواب کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔
ان صاحب نے کہا، وہ کیسے؟ میں نے کہا، آپ اپنا سوال دہرائیں۔
انہوں نے سوال دہرایا، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں تین مرتبہ طلاق دیتا ہے تو کیا طلاق ہوجائے گی؟
میں نے کہا، سوال ایک بار پھر دہرائیں۔ ان صاحب نے کن اکھیوں سے مجھے دیکھا اور سوال دہرایا۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں تین مرتبہ طلاق دیتا ہے تو کیا طلاق ہوجائے گی؟
میں نے کہا صحیح سوال اس طرح ہے۔ اگر کوئی شخص غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو کیا طلاق ہوجائے گی؟
انہوں نے مجھے حیرت سے دیکھا اور پوچھا، کیا فرق ہے، میں نے یہی تو کہا تھا!
میں نے کہا، آپ نے لفظ "تین" کا اضافہ کیوں کیا؟
ہم میں سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ، طلاق دینے کے لئے تین دفعہ بولنا ضروری ہے۔ اور پھر مولویوں کے پاس فتوے لینے کے لئے بھاگتے پھرتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں امام کے مسلک میں تین طلاق کا مطلب تین ہی ہوتا ہے۔ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، اور ساتھ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جہالت کی وجہ سے تین طلاق دے دی ہیں تو اب اس جہالت کی سزا بھی خوشی سے قبول کرو۔
قرآن کا قانون صریح اور واضح ہے، قرآن سے انکار اسی چیز کا نام ہے کہ کوئی شخص قرآن کو پڑھے اور سمجھے بغیر زندگی کے کسی بھی مسئلہ پر آنکھ بند کرکے عمل کرے۔ اور بعد میں علماء کے پیچھے بھاگتا پھرے۔
طلاق دینے کا صحیح طریقہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔
جب ایک طلاق دی جاتی ہے تو بیوی کو گھر سے نہیں نکالا جاتا، یعنی وہ دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اور دونوں کو تین طہر تک، کے عرصہ کے لئے، سوچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ یہی قانون فطرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ انسان کی فطرت کے مطابق قانون بنائے ہیں، انسان کو وقتی طور پر غصہ آجاتا ہے، پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ وہ اپنے اس عمل پر سوچتا ہے، غور کرتا ہے، اسی طرح دونوں میاں بیوی ایک طلاق کے بعد، ایک وقت مقرر تک، ایک ساتھ رہتے ہیں، انہیں احساس ہوتا ہے تو گھر ٹوٹنے سے بچ سکتا ہے۔ اگر شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں، عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں، یعنی زوجیت میں واپس آنے کے، البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے، یعنی مرد اگر چاہے تو عورت کے اس حق کو رد کرسکتا ہے، اور عدت کی مدت پوری ہونے پر دونوں جدا ہوجائیں گے۔
اب اگر وہ دونوں جدا ہوجاتے ہیں تو زندگی کے کسی بھی حصہ میں پھر سے شادی کرسکتے ہیں، اس صورت میں انہیں دوبارہ نکاح کرنے سے روکا نہ جائے۔
اسی طرح دوسری طلاق کے بعد بھی سوچنے کا موقعہ مل جاتا ہے، یعنی ایک طلاق دی، اللہ کے قانون کے مطابق، ایک مقرر مدت تک، ساتھ رہے، ایک دوسرے کا احساس کیا اور رجوع کرلیا، یعنی پھر سے مل کر رہنے لگے، یا عدت کی مدت پوری ہونے پر دونوں جدا ہوجاتے ہیں اور پھر سے کسی وقت نکاح کرکے رہنے لگتے ہیں، اور پھر کبھی کسی بات پر تنازع بڑھ جاتا ہے، اس صورت میں نوبت پھر طلاق کی آ پہنچے، تو اس دوسری طلاق کے بعد بھی سوچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔
البتہ تیسری طلاق کے بعد دونوں ساتھ نہیں رہ سکتے، کیونکہ لمٹ، حد‍، رکھنا ضروری ہے۔ اسلام سے پہلے لوگ کئی مرتبہ طلاق دیتے اور پھر سے رجوع کرلیتے۔ اس طرح عورت کی زندگی عذاب بن جاتی۔
اب سمجھتے ہیں حلالہ کیا چیز ہے۔
اب تیسری طلاق کے بعد بیوی، یعنی وہ عورت، دوسرے شوہر، یعنی کسی اور شخص سے شادی کریگی (اگر وہ کرنا چاہے تو) اور اسی کے ساتھ ساری زندگی گزار دیگی۔ یہ قرآن کا قانون ہے۔
یہاں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔
اگر دوسرا شوہر انتقال کرجاتا ہے یا اسے چھوڑ دیتا ہے، یعنی طلاق دیتا ہے، تب اس عورت کو اجازت ہے کہ وہ پہلے شوہر سے شادی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ اس چیز کو لوگوں نے حلالہ کا نام دے دیا ہے۔ اور جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں، یعنی لوگ اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد کرایہ کا شوہر، ایک رات کے، لیتے ہیں اور یہ غلیظ کام کرتے ہیں جو کہ حرام ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایسا کام کرنے والے پر اور کروانے والے پر لعنت ہے۔

Comments